ابنا: پاک افغان سرحد پر پر بدھ کو ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک افغان پولیس اہلکار ہلاک اور دو پاکستانی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔
ایک سینئر افغان آفیشل کا کہنا ہے کہ متنازع سرحد پر دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد افغان فوج کے اضافی دستے سرحد پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔
پاکستانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ افغان نیشنل آرمی(اے این اے) نے ان کی ایک سرحدی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔
ملک کے شمال مغربی علاقے کے ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی آفیشل نے بتایا کہ اے این اے کے دستوں نے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے فائرنگ کی جس کے بعد مہمند کے قبائلی علاقے میں پاک افغان سرحد پر دو گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ اے این اے نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، فائرنگ سے ہمارے دو اہلکار زخمی ہو گئے اور ہم اس معاملے کو مناسب فورم پر اٹھائیں گے۔
افغان سرحد کے ساتھ واقع ضلع مہمند کے ایک انتظامی آفیشل نے فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے میں ایمبولینس بھیج دی گئی ہیں۔
ایک عرصے سے جاری سرحد پار حملوں کا یہ تازہ واقعہ ہے جہاں پاکستان اور افغان حکام ایک دوسرے کو واقعے کی ابتدا کرنے کا ذمے دار ٹھہراتے رہے ہیں۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ افغانستان میں طالبان اور دیگر باغی دھڑوں کی حمایت سے بھری پڑی ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان افغانستان پر سرحد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ایک سینئر افغان آفیشل کا کہنا ہے کہ متنازع سرحد پر دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد افغان فوج کے اضافی دستے سرحد پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔
پاکستانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ افغان نیشنل آرمی(اے این اے) نے ان کی ایک سرحدی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔
ملک کے شمال مغربی علاقے کے ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی آفیشل نے بتایا کہ اے این اے کے دستوں نے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے فائرنگ کی جس کے بعد مہمند کے قبائلی علاقے میں پاک افغان سرحد پر دو گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ اے این اے نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، فائرنگ سے ہمارے دو اہلکار زخمی ہو گئے اور ہم اس معاملے کو مناسب فورم پر اٹھائیں گے۔
افغان سرحد کے ساتھ واقع ضلع مہمند کے ایک انتظامی آفیشل نے فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے میں ایمبولینس بھیج دی گئی ہیں۔
ایک عرصے سے جاری سرحد پار حملوں کا یہ تازہ واقعہ ہے جہاں پاکستان اور افغان حکام ایک دوسرے کو واقعے کی ابتدا کرنے کا ذمے دار ٹھہراتے رہے ہیں۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ افغانستان میں طالبان اور دیگر باغی دھڑوں کی حمایت سے بھری پڑی ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان افغانستان پر سرحد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲